March 13, 2023

Ibne e Insha

 ‏فرض کرو ہم اہل وفا ہوں، فرض کرو دیوانے ہوں 

فرض کرو یہ دونوں باتیں جھوٹی ہوں افسانے ہوں 


فرض کرو یہ جی کی بپتا جی سے جوڑ سنائی ہو 

فرض کرو ابھی اور ہو اتنی آدھی ہم نے چھپائی ہو 


فرض کرو تمہیں خوش کرنے کے ڈھونڈھے ہم نے بہانے ہوں 

فرض کرو یہ نین تمہارے سچ مچ کے مے خانے ہوں 


فرض کرو یہ روگ ہو جھوٹا جھوٹی پیت ہماری ہو 

فرض کرو اس پیت کے روگ میں سانس بھی ہم پر بھاری ہو 


فرض کرو یہ جوگ بجوگ کا ہم نے ڈھونگ رچایا ہو 

فرض کرو بس یہی حقیقت باقی سب کچھ مایا ہو 


دیکھ مری جاں کہہ گئے باہو کون دلوں کی جانے 'ہو' 

بستی بستی صحرا صحرا لاکھوں کریں دوانے 'ہو' 


جوگی بھی جو نگر نگر میں مارے مارے پھرتے ہیں 

کاسہ لیے بھبوت رمائے سب کے دوارے پھرتے ہیں 


شاعر بھی جو میٹھی بانی بول کے من کو ہرتے ہیں 

بنجارے جو اونچے داموں جی کے سودے کرتے ہیں 


ان میں سچے موتی بھی ہیں، ان میں کنکر پتھر بھی 

ان میں اتھلے پانی بھی ہیں، ان میں گہرے ساگر بھی 


گوری دیکھ کے آگے بڑھنا سب کا جھوٹا سچا 'ہو' 

ڈوبنے والی ڈوب گئی وہ گھڑا تھا جس کا کچا 'ہو' 


ابن انشاء

 ‏میرے لیے تو حرفِ دُعا ہو گیا وہ شخص 

سارے دُکھوں کی جیسے دوا ہو گیا وہ شخص 


میں آسماں پہ تھا تو زمیں کی کشش تھا وہ 

اُترا زمین پر تو ہوا ہو گیا وہ شخص 


سوچوں بھی اب اُسے تو تخیل کے پر جلیں 

مُجھ سے جُدا ہوا تو خُدا ہو گیا وہ شخص 


سب اشک پی گیا مرے اندر کا آدمی

میں خشک ہو گیا ہوں ہرا ہو گیا وہ شخص 


میں اُس کا ہاتھ دیکھ رہا تھا کہ دفعتاً 

سِمٹا سِمٹ کے رنگِ حِنا ہو گیا وہ شخص 


پِھرتا ہے لے کے آنکھ کا کشکول دربدر

دِل کا بھرم لُٹا تو گدا ہو گیا وہ شخص


یوں بھی نہیں کہ پاس ہے میرے وہ ہم نفس 

یہ بھی غلط کہ مُجھ سے جُدا ہو گیا وہ شخص 


پڑھتا تھا میں نماز سمجھ کر اُسے رشیدؔ 

پھر یوں ہوا کہ مُجھ سے قضا ہو گیا وہ شخص 


رشیدؔ قیصرانی

March 12, 2023

دستور - زہرہ نگار Dastoor zuhra nigar

 ‏”دستور"


سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے

سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا

درختوں کی گھنی چھاؤں میں جا کر لیٹ جاتا ہے

ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں

تو مینا اپنے بچے چھوڑ کر

کوے کے انڈوں کو پروں سے تھام لیتی ہے

سنا ہے گھونسلے سے کوئی بچہ گر پڑے تو سارا جنگل جاگ جاتا ہے

سنا ہے جب کسی ندی کے پانی میں

بئے کے گھونسلے کا گندمی رنگ لرزتا ہے

تو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس کو پڑوسن مان لیتی ہیں

کبھی طوفان آ جائے، کوئی پل ٹوٹ جائے تو

کسی لکڑی کے تختے پر

گلہری، سانپ، بکری اور چیتا ساتھ ہوتے ہیں

سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے

خداوندا! جلیل و معتبر! دانا و بینا منصف و اکبر!

مرے اس شہر میں اب جنگلوں ہی کا کوئی قانون نافذ کر!


زہرہ نگاہ

March 09, 2023

Mohsin Naqvi Poetry

 ‏بھڑکائیں مری پیاس کو اکثر تری آنکھیں

صحرا مرا چہرا ہے سمندر تری آنکھیں


پھر کون بھلا داد تبسم انہیں دے گا

روئیں گی بہت مجھ سے بچھڑ کر تری آنکھیں


خالی جو ہوئی شام غریباں کی ہتھیلی

کیا کیا نہ لٹاتی رہیں گوہر تیری آنکھیں


بوجھل نظر آتی ہیں بظاہر مجھے لیکن

کھلتی ہیں بہت دل میں اتر کر تری آنکھیں


اب تک مری یادوں سے مٹائے نہیں مٹتا

بھیگی ہوئی اک شام کا منظر تری آنکھیں


ممکن ہو تو اک تازہ غزل اور بھی کہہ لوں

پھر اوڑھ نہ لیں خواب کی چادر تری آنکھیں


میں سنگ صفت ایک ہی رستے میں کھڑا ہوں

شاید مجھے دیکھیں گی پلٹ کر تری آنکھیں


یوں دیکھتے رہنا اسے اچھا نہیں محسنؔ

وہ کانچ کا پیکر ہے تو پتھر تری آنکھیں


محسن نقوی

March 08, 2023

Mastoor Anwer Poetry

 ‏ہم کو کس کے غم نے مارا یہ کہانی پھر سہی

کس نے توڑا دل ہمارا یہ کہانی پھر سہی


دل کے لٹنے کا سبب پوچھو نہ سب کے سامنے

نام آئے گا تمھارا یہ کہانی پھر سہی


نفرتوں کے تیر کھا کر دوستوں کے شہر میں

ہم نے کس کس کو پکارا یہ کہانی پھر سہی


کیا بتائیں پیار کی بازی وفا کی راہ میں

کون جیتا کون ہارا یہ کہانی پھر سہی


مسرور انور

March 06, 2023

Farhat Abbas Shah Poetry

 ‏ساڈی دل دے ہتھ مُہار

اَسی ڈھونڈن  نِکلے یار

اَسی ہسدے پُھل گلاب

اَسی روندے زار و قطار

ساڈی جِت دا راز اسان

اَسی کدی نا منی ہار


فرحت عباس شاہ

اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت

 

اٹھ صبح ہوئی مرغ چمن نغمۂ سرا دیکھ

نور سحر و حسن گل و لطف ہوا دیکھ

دو چار فرشتوں پہ بلا آئے گی نا حق

اے غیرت ناہید نہ ہو نغمہ سرا دیکھ

منت سے مناتے ہیں مجھے میں نہیں منتا

اوضاع ملک دیکھ اور اطوار‌ گدا دیکھ

گر بو الہوسی یوں تجھے باور نہیں آتی

اک مرتبہ اغیار کے قابو میں تو آ دیکھ

اتنی نہ بڑھا پاکیٔ داماں کی حکایت

دامن کو ذرا دیکھ ذرا بند قبا دیکھ

اک دم کے نہ ملنے پہ نہیں ملتے ہیں مجھ سے

اے شیفتہؔ مایوسیٔ امید فضا دیکھ