November 30, 2022

Shakir Shuja Abadi

 Taikon yad hosi mai akhya ham' dildar mitha tu chor waisin,

Wal wal quran te hath na rakh' na kasman chaa tu chor waisin,
kojh soch samjh k faisla kar' na josh dikha tu chor waisin,
Kar shakir kon barbad sajan' bas lok khila tu chor waisin,

November 27, 2022

دکھ

‏کوئی تردید کا صَدمہ ھے ، نہ اَثبات کا دُکھ

جب بچھڑنا ھی مقدر ھے تو ، کس بات کا دُکھ؟

میز پر چائے کا بھاپ اُڑاتا ھُوا کپ

اور ساتھ رَکھا ھے , نہ ھونے والی ملاقات کا دُکھ__





November 26, 2022

شامیں

 ‏کیسے گزری ہیں جدائ میں ہماری شامیں

تم سے کہہ دیں تو اُجڑ جائیں تمہاری شامیں


ہجر ،پردیس ،تہی جیب ، غزل کی وحشت

تم نے دیکھی نہیں حالات کی ماری شامیں


اُس نے کچھ سوچ کے انسان میں وحشت رکھی

اُس نے ہیں سوچ کے دنیا میں اُتاری شامیں


احمد سلمان

November 25, 2022

وہ نہیں رہا

 ‏ہنسنے کا مشورہ بھی ترا خوب ہے مگر

مجھ میں تھا خوش مزاج کوئی، وہ نہیں رہا


چہرے کو دیکھ کر جو سمجھتا تھا میرا دکھ

ایسا بھی کوئی شخص مرا ہم نشیں رہا


کچھ اس لیے بھی میں یہاں اکتا گیا ہوں دوست

بستی میں ہم مزاج کوئی مل نہیں رہا


جمیل احمد قیس

Muhabbat

 کہا اس نے

تب مجھے واقعی تم سے محبت تھی کہا میں نے مجھے تو اب بھی تم سے محبت ہے وہ " تب" کی بات کرتی ہے" میں" اب" کی بات کرتا ہوں مگر جو " فاصلہ" " تب " اور " اب " کے درمیاں حائل ہے وہ ہم سے تو مل کر بھی سمیٹا جا نہیں سکتا وہ " اب " تک آ نہیں سکتی اور میں" تب " کو پا نہیں سکتا

November 24, 2022

احمد فراز

 ‏سب قرینے۔۔۔ اُسی دل دار کے رکھ دیتے ہیں 

ہم غزل میں بھی۔۔۔ ہنر یار کے رکھ دیتے ہیں 


ذکرِجاناں میں۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ دنیا کو کہاں لے آئے 

لوگ کیوں مسئلے بے کار کے رکھ دیتے ہیں 


ہم تو چاہت میں بھی غالب کے مقلد ہیں فراز 

جس پہ مرتے ہیں اُسے مار کے رکھ دیتے ہیں


احمد فراز

تجھے دیکھتے ہیں

 ‏وہ جو پامالِ زمانہ ہیں، مِرے تخت نشیں!

دیکھ تو کیسی مُحبّت سے تُجھے دیکھتے ہیں


کاسہء دِید میں بس ایک جَھلک کا سِکّہ

ہم فقیروں کی قناعت سے تُجھے دیکھتے ہیں


تُجھ کو کیا عِلم، تُجھے ہارنے والے کچھ لوگ

کِس قدر سخت ندامت سے تُجھے دیکھتے ہیں


پروین شاکر

کوئی بات کرو ہو-

‏چپ چاپ کیوں پھرو ہو کوئی بات تو کرو 

حل بھی نکالتے ہیں ملاقات تو کرو 

خالی ہوا میں اڑنا فقیری نہیں میاں

دل جوڑ کر دکھاؤ۔۔!! کرامات تو کرو

دل جوڑ کر دکھاؤ۔۔!! کرامات تو کرو



 

November 22, 2022

بدل جانا

 ‏تمہارا یوں مکر جانا ، اچانک یوں بدل جانا 

تو مطلب مجھ کو خوابوں میں اشارے ٹھیک ملتے ہیں 

ہمیں تو جو ملا اپنا , وہی ڈسنے میں ماہر تھا 

نجانے کیسے لوگوں کو سہارے ٹھیک ملتے ہیں

November 20, 2022

رت

 ‏عجیب رت تھی کہ ہر چند پاس تھا وہ بھی

بہت ملول تھا میں بھی، اداس تھا وہ بھی

کسی کے شہر میں کی گفتگو ہواؤں سے

یہ سوچ کر کہ کہیں آس پاس تھا وہ بھی

ہم اپنے زعم میں خوش تھے کہ اس کو بھول چکے

مگر گمان تھا یہ بھی، قیاس تھا وہ بھی


احمد فراز

ہے دعا یاد مگر حرف دعا یاد نیہں

 ‏ہے دعا یاد مگر حرفِ دعا یاد نہیں​


میرے نغمات کو اندازِ نوا یاد نہیں​


ہم نے جن کے لئے راہوں میں بچھایا تھا لہو​


ہم سے کہتے ہیں وہی عہدِ وفا یاد نہیں​


میں نے پلکوں سے درِ یار پہ دستک دی ہے​


میں وہ سائل ہوں جسے کوئی صدا یاد نہیں​


 ساغر صدیقی

November 18, 2022

نصاب عشق پہ واجب زکوٰۃ ہیں ہم لوگ

 ‏ہر اک ہزار میں بس پانچ سات ہیں ہم لوگ

نصاب عشق پہ واجب زکوٰۃ ہیں ہم لوگ


دباؤ میں بھی جماعت کبھی نہیں بدلی

شروع دن سے محبت کے ساتھ ہیں ہم لوگ


جو سیکھنی ہو زبان سکوت بسم اللہ

خموشیوں کی مکمل لغات ہیں ہم لوگ


کہانیوں کے وہ کردار جو لکھے نہ گئے

خبر سے حذف شدہ واقعات ہیں ہم لوگ

‏یہ انتظار ہمیں دیکھ کر بنایا گیا.

ظہور ہجر سے پہلے کی بات ہیں ہم لوگ. 


کسی کو راستہ دے دیں کسی کو پانی نہ دیں.

کہیں پہ نیل کہیں پر فرات ہیں ہم لوگ. 


ہمیں جلا کے کوئی شب گزار سکتا ہے.

سڑک پہ بکھرے ہوئے کاغذات ہیں ہم لوگ.



November 15, 2022

 ‏میرے داغِ دل وہ چراغ ہیں , نہیں نسبتیں جنہیں شام سے...

انہیں تو ہی آ کے بجھاۓ گا یہ جلے ہیں تیرے ہی نام س



ے

November 11, 2022

محاصرہ

مرے غنیم نے مجھ کو پیام بھیجا ہے کہ حلقہ زن ہیں مرے گرد لشکری اس کے فصیل شہر کے ہر برج ہر منارے پر کماں بہ دست ستادہ ہیں عسکری اس کے وہ برق لہر بجھا دی گئی ہے جس کی تپش وجود خاک میں آتش فشاں جگاتی تھی بچھا دیا گیا بارود اس کے پانی میں وہ جوئے آب جو میری گلی کو آتی تھی سبھی دریدہ دہن اب بدن دریدہ ہوئے سپرد دار و رسن سارے سر کشیدہ ہوئے تمام صوفی و سالک سبھی شیوخ و امام امید لطف پہ ایوان کج کلاہ میں ہیں معززین عدالت بھی حلف اٹھانے کو مثال سائل مبرم نشستہ راہ میں ہیں تم اہل حرف کہ پندار کے ثناگر تھے وہ آسمان ہنر کے نجوم سامنے ہیں بس اک مصاحب دربار کے اشارے پر گداگران سخن کے ہجوم سامنے ہیں قلندران وفا کی اساس تو دیکھو تمہارے ساتھ ہے کون آس پاس تو دیکھو سو شرط یہ ہے جو جاں کی امان چاہتے ہو تو اپنے لوح و قلم قتل گاہ میں رکھ دو وگرنہ اب کے نشانہ کمان داروں کا بس ایک تم ہو سو غیرت کو راہ میں رکھ دو یہ شرط نامہ جو دیکھا تو ایلچی سے کہا اسے خبر نہیں تاریخ کیا سکھاتی ہے کہ رات جب کسی خورشید کو شہید کرے تو صبح اک نیا سورج تراش لاتی ہے سو یہ جواب ہے میرا مرے عدو کے لیے کہ مجھ کو حرص کرم ہے نہ خوف خمیازہ اسے ہے سطوت شمشیر پر گھمنڈ بہت اسے شکوہ قلم کا نہیں ہے اندازہ مرا قلم نہیں کردار اس محافظ کا جو اپنے شہر کو محصور کر کے ناز کرے مرا قلم نہیں کاسہ کسی سبک سر کا جو غاصبوں کو قصیدوں سے سرفراز کرے مرا قلم نہیں اوزار اس نقب زن کا جو اپنے گھر کی ہی چھت میں شگاف ڈالتا ہے مرا قلم نہیں اس دزد نیم شب کا رفیق جو بے چراغ گھروں پر کمند اچھالتا ہے مرا قلم نہیں تسبیح اس مبلغ کی جو بندگی کا بھی ہر دم حساب رکھتا ہے مرا قلم نہیں میزان ایسے عادل کی جو اپنے چہرے پہ دہرا نقاب رکھتا ہے مرا قلم تو امانت ہے میرے لوگوں کی مرا قلم تو عدالت مرے ضمیر کی ہے اسی لیے تو جو لکھا تپاک جاں سے لکھا جبھی تو لوچ کماں کا زبان تیر کی ہے میں کٹ گروں کہ سلامت رہوں یقیں ہے مجھے کہ یہ حصار ستم کوئی تو گرائے گا تمام عمر کی ایذا نصیبیوں کی قسم مرے قلم کا سفر رائیگاں نہ جائے گا سرشت عشق نے افتادگی نہیں پائی تو قد سرو نہ بینی و سایہ پیمائی

November 09, 2022

‏گرد ہے چاروں طرف، قافلہ کوئی نہیں فاصلوں کا شہر ہے
، راستہ کوئی نہیں ہر مکیں ہے اجنبی ہر نظر نا آشنا ہم سفر ہیں ہر قدم،
 ہم نوا کوئی نہیں دوست جس نے کہہ دیا کر لیا ہم نے یقیں
 کیا کسی کے دل میں ہے جانتا کوئی نہیں
 آپ بھی ابرک ہوئے شہر جیسے اب
 مرے آپ کو بھی زعم ہے آپ سا کوئی نہیں

November 07, 2022

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ - Ahmad Faraz

 

آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ

کچھ تو مرے پندار محبت کا بھرم رکھ

تو بھی تو کبھی مجھ کو منانے کے لیے آ

پہلے سے مراسم نہ سہی پھر بھی کبھی تو

رسم و رہ دنیا ہی نبھانے کے لیے آ

کس کس کو بتائیں گے جدائی کا سبب ہم

تو مجھ سے خفا ہے تو زمانے کے لیے آ

اک عمر سے ہوں لذت گریہ سے بھی محروم

اے راحت جاں مجھ کو رلانے کے لیے آ

اب تک دل خوش فہم کو تجھ سے ہیں امیدیں

یہ آخری شمعیں بھی بجھانے کے لیے آ

ویڈیو
THIS VIDEO IS PLAYING FROM YOUTUBE