January 24, 2026

Amazing Poetry of Faiz Ahmad Faiz

 ہم پر تمہاری چاہ کا الزام ہی تو ہے

دشنام تو نہیں ہے یہ اکرام ہی تو ہے


دل ناامید تو نہیں ناکام ہی تو ہے

لمبی ہے غم کی شام مگر شام ہی تو ہے


کرتے ہیں جس پہ طعن کوئی جرم تو نہیں

شوق فضول و الفت ناکام ہی تو ہے


دل مدعی کے حرف ملامت سے شاد ہے

اے جان جاں یہ حرف ترا نام ہی تو ہے


دست فلک میں گردش تقدیر تو نہیں

دست فلک میں گردش ایام ہی تو ہے


آخر تو ایک روز کرے گی نظر وفا

وہ یار خوش خصال سر بام ہی تو ہے


بھیگی ہے رات فیضؔ غزل ابتدا کرو

وقت سرود درد کا ہنگام ہی تو ہے


No comments:

Post a Comment