September 26, 2023


تیرا چپ رہنا مرے ذہن میں کیا بیٹھ گیا

اتنی آوازیں تجھے دیں کہ گلا بیٹھ گیا


یوں نہیں ہے کہ فقط میں ہی اسے چاہتا ہوں

جو بھی اس پیڑ کی چھاؤں میں گیا بیٹھ گیا


اتنا میٹھا تھا وہ غصے بھرا لہجہ مت پوچھ

اس نے جس جس کو بھی جانے کا کہا بیٹھ گیا


اپنا لڑنا بھی محبت ہے تمہیں علم نہیں

چیختی تم رہی اور میرا گلا بیٹھ گیا


اس کی مرضی وہ جسے پاس بٹھا لے اپنے

اس پہ کیا لڑنا فلاں میری جگہ بیٹھ گیا


بات دریاؤں کی سورج کی نہ تیری ہے یہاں

دو قدم جو بھی مرے ساتھ چلا بیٹھ گیا


بزم جاناں میں نشستیں نہیں ہوتیں مخصوص

جو بھی اک بار جہاں بیٹھ گیا بیٹھ گیا....

No comments:

Post a Comment