November 26, 2025

Best of Perveen Shakir کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی

 کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی

دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی

بات وہ آدھی رات کی رات وہ پورے چاند کی
چاند بھی عین چیت کا اس پہ ترا جمال بھی

سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتا
ایک دفعہ تو رک گئی گردش ماہ و سال بھی

دل تو چمک سکے گا کیا پھر بھی تراش کے دیکھ لیں
شیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی

اس کو نہ پا سکے تھے جب دل کا عجیب حال تھا
اب جو پلٹ کے دیکھیے بات تھی کچھ محال بھی
میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر
ہاتھ دعا سے یوں گرا بھول گیا سوال بھی
اس کی سخن طرازیاں میرے لیے بھی ڈھال تھیں
اس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھی
گاہ قریب شاہ رگ گاہ بعید وہم و خواب
اس کی رفاقتوں میں رات ہجر بھی تھا وصال بھی
اس کے ہی بازوؤں میں اور اس کو ہی سوچتے رہے
جسم کی خواہشوں پہ تھے روح کے اور جال بھی
شام کی نا سمجھ ہوا پوچھ رہی ہے اک پتا
موج ہوائے کوئے یار کچھ تو مرا خیال بھی

Best Urdu Poetry by ibn e insha - Insha g ab umer ki naqdi khatam hui اب عمر کی نقدی ختم ہوئی

 اب عمر کی نقدی ختم ہوئی

اب ہم کو ا دھار کی حاجت ہے ہے کوئی جو ساہو کار بنے ہے کوئی جو دیون ہار بنے کچھ سال ،مہینے، دن لوگو پر سود بیاج کے بن لوگو ہاں اپنی جا ں کے خزانے سے ہاں عمر کے توشہ خانے سے کیا کوئی بھی ساہو کار نہیں؟ کیا کوئی بھی دیون ہار نہیں؟ جب نام ادھار کا آیا ہے کیوں سب نے سر کو جھکایا ہے کچھ کام ہمیں نپٹانے ہیں جنہیں جاننے والے جانے ہیں کچھ پیار دلار کے دھندے ہیں کچھ جگ کے دوسرے پھندے ہیں ہم مانگتے نہیں ہزا ر برس دس پانچ برس دو چار برس ہاں ،سود بیا ج بھی دے لیں گے ہاں اور خرا ج بھی دے لیں گے آسان بنے، دشوار بنے پر کوئی تو دیون ہار بنے تم کون ہو تمہارا نام کیا ہے کچھ ہم سے تم کو کام کیا ہے کیوں ا س مجمع میں آئی ہو کچھ مانگتی ہو ؟ کچھ لاتی ہو یہ کاروبار کی باتیں ہیں یہ نقد ادھار کی باتیں ہیں ہم بیٹھے ہیں کشکول لیے سب عمر کی نقدی ختم کیے گر شعر کے رشتے آئی ہو تب سمجھو جلد جدائی ہو اب گیت گیا سنگیت گیا ہاں شعر کا موسم بیت گیا اب پت جھڑ آئی پات گریں کچھ صبح گریں، کچھ را ت گریں یہ اپنے یار پرانے ہیں اک عمر سے ہم کو جانے ہیں ان سب کے پاس ہے مال بہت ہاں عمر کے ماہ و سال بہت ان سب کو ہم نے بلایا ہے اور جھولی کو پھیلایا ہے تم جاؤ ا ن سے بات کریں ہم تم سے نا ملاقات کریں کیا پانچ برس ؟ کیا عمر ا پنی کے پانچ برس ؟ تم جا ن کی تھیلی لائی ہو ؟ کیا پاگل ہو ؟ سو دائی ہو ؟ جب عمر کا آ خر آتا ہے ہر دن صدیاں بن جاتا ہے جینے کی ہوس نرالی ہے ہے کون جو ا س سے خالی ہے کسی اور خراج کا لالچ ہے ؟ تم سوہنی ہو ، من موہنی ہو ؛ تم جا کر پوری عمر جیو یہ پانچ برس، یہ چار برس چھن جائیں تو لگیں ہزار برس سب دوست گئے سب یار گئے تھے جتنے ساہو کار ، گئے بس ایک یہ ناری بیٹھی ہے یہ کون ہے ؟ کیا ہے ؟ کیسی ہے ؟ ہاں عمر ہمیں درکار بھی ہے ؟ ہاں جینے سے ہمیں پیار بھی ہے جب مانگیں جیون کی گھڑیاں گستاخ اکھیں کتھے جا لڑیاں ہم قرض تمہیں لوٹا دیں گے کچھ اور بھی گھڑیاں لا دیں گے جو ساعت و ماہ و سال نہیں وہ گھڑیاں جن کو زوال نہیں لو ا پنے جی میں اتار لیا لو ہم نے تم سے ادھار لیا…!!!

November 14, 2025

کسی بشر میں ہزار خامی Amazing Poetry lines

 کسی بشر میں

ہزار خامی
اگر جو دیکھو تو چپ ہی رہنا
کسی بشر کا جو راز پاو
یا عیب دیکھو
تو چپ ہی رہنا
اگر منادی کو لوگ آئیں
تمہیں کُریدیں
تمہیں منائیں
تمہاری ہستی کے گیت گائیں
تمہیں کہیں کہ
بشر میں دیکھی برائیوں کو بیان کر دو
تو چپ ہی رہنا
جواز
یہ ہے
دلیل
یہ ہے
ضعیف لمحوں کی لغزشوں کو
حرام ناطے کی قربتوں کو
ہماری ساری حماقتوں کو
ہماری ساری خباثتوں کو
وہ جانتا ہے
وہ دیکھتا ہے
مگر وہ چپ ہے
اگر وہ چپ ہے
تو میری مانو
وہ کہہ رہا ہے
کہ
چپ ہی رہنا

November 04, 2025

Amazing Nasir Kazmi Urdu Poetry

 کیا دن مجھے عشق نے دکھاۓ

اِک بار جو آۓ پھر نہ آۓ اُس پیکرِ ناز کا فسانہ دل ہوش میں آۓ تو سُناۓ وہ روحِ خیال و جانِ مضموں دل اس کو کہاں سے ڈھونڈھ لاۓ آنکھیں تھیں کہ دو چھلکتے ساغر عارض کہ شراب تھرتھراۓ مہکی ہوئ سانس نرم گفتار ہر ایک روش پہ گل کھلاۓ راہوں پہ ادا ادا سے رقصاں آنچل میں حیا سے منہ چھپاۓ اُڑتی ہوئ زلف یوں پریشاں جیسے کوئ راہ بھول جاۓ کچھ پھول برس پڑے زمیں پر کچھ گیت ہوا میں لہلہاۓ