May 18, 2023

 ‏کبھی انتظار لمحہ سرِ شام رکھ دیا ہے

کبھی دل اٹھا کے ہم نے ، ترے نام رکھ دیا یے


ترے رُخ کی چاندنی کا ، کبھی نام صبح رکھا

تری چشمِ سُر مگیں کا ، کبھی شام رکھ دیا ھے


تجھے سانس سانس بُننا ، یہی مشغلہ ھے دل کا

یہی بندگی چُنی ہے یہی کام رکھ دیا ہے 


نسرین سید

May 12, 2023

‏جو ہیں بے خطا، وہی دربدر

 ‏جو ہیں بے خطا، وہی دربدر

یہ عجیب طرزِ نصاب ہے

جو گنہ کریں، وہی معتبر

یہ عجیب روزِ حساب ہے


یہ عجیب رت ہے بہار کی

کہ ہر ایک زیرِ عتاب ہے

’’کہیں پر شکستہ ہے فاختہ

کہیں زخم زخم گلاب ہے‘‘


مرے دشمنوں کو جواب ہے

نہیں غاصبوں پہ شفیق مَیں

مرے حاکموں کو خبر کرو

نہیں آمروں کا رفیق مَیں

May 06, 2023

اتباف ابرک

 یہ رنج کب تک ملال کب تک

یہ زنگ بستہ سوال، کب تک


عروج پائے گی یہ زمیں کب

زوال ہو گا زوال کب ٹک


خود اپنا جینا بھی جی سکیں ہم

ہماری ہو گی مجال کب تک


وہ جس کے وعدے پہ جی رہے ہیں

رسد وہ ہو گی بحال کب تک


بھلا نہیں تو بہت برا ہو 

کہ ایک جیسے ہی سال کب تک


وہ جس سے عیدِ حیات ہو گی 

دکھائی دے گا ہلال کب تک


کوئی مقابل بھی آئے ابرک

یہ آستیں والی چال کب تک


۔۔ اتباف ابرک

May 04, 2023

 ‏قصے میری الفت کے جو مرقوم ہیں سارے

آ دیکھ تیرے نام سے موسوم ہیں سارے


بس اس لیے ہر کام اَدُھورا ہی پڑا ہے

خادم بھی میری قوم کے مخدوم ہیں سارے


اب کون میرے پاؤں کی زنجیر کو کھولے

حاکم میری بستی کے بھی محکوم ہیں سارے


شاید یہ ظرف ہے جو خاموش ہوں اب تک

ورنہ تو تیرے عیب بھی معلوم ہیں سارے


ہر جرم میری ذات سے منسوب ہیں محسن

کیا میرے سوا شہر میں معصوم ہیں سارے


محسن نقوی

May 03, 2023

 ‏اشک آنکھوں میں چھپاتے ہوئے تھک جاتا ہوں

 بوجھ پانی کا اٹھاتے ہوئے تھک جاتا ہوں


پاؤں رکھتے ہیں جو مجھ پر انہیں احساس نہیں

 میں نشانات مٹاتے ہوئے تھک جاتا ہوں


برف ایسی کہ پگھلتی نہیں پانی بن کر

 پیاس ایسی کہ بجھاتے ہوئے تھک جاتا ہوں


اچھی لگتی نہیں اس درجہ شناسائی بھی

 ہاتھ ہاتھوں سے ملاتے ہوئے تھک جاتا ہوں


غمگساری بھی عجب کار محبت ہے کہ میں

 رونے والوں کو ہنساتے ہوئے تھک جاتا ہوں


اتنی قبریں نہ بناؤ میرے اندر محسن

 میں چراغوں کو جلاتے ہوئے تھک جاتا ہوں


محسن نقوی

May 02, 2023

 ‏چل انشاء اپنے گاؤں میں


یہاں اُلجھے اُلجھے رُوپ بہت

پر اصلی کم، بہرُوپ بہت

اس پیڑ کے نیچے کیا رُکنا

جہاں سایہ کم ہو، دُھوپ بہت

چل انشاء اپنے گاؤں میں

بیٹھیں گے سُکھ کی چھاؤں میں


کیوں تیری آنکھ سوالی ہے؟

یہاں ہر اِک بات نرالی ہے

اِس دیس بسیرا مت کرنا

یہاں مُفلس ہونا گالی ہے

چل انشاء اپنے گاؤں میں

بیٹھیں گے سُکھ کی چھاؤں میں


جہاں سچے رشتے یاریوں کے

جہاں گُھونگھٹ زیور ناریوں کے

جہاں جھرنے کومل سُکھ والے

جہاں ساز بجیں بِن تاروں کے

چل انشاء اپنے گاؤں میں

بیٹھیں گے سُکھ کی چھاؤں میں


ابنِ انشاء

 ‏مرے جنوں کا نتیجہ ضرور نکلے گا

اسی سیاہ سمندر سے نور نکلے گا


گرا دیا ہے تو ساحل پہ انتظار نہ کر

اگر وہ ڈوب گیا ہے تو دور نکلے گا


اسی کا شہر وہی مدعی وہی منصف

ہمیں یقیں تھا ہمارا قصور نکلے گا


یقیں نہ آئے تو اک بات پوچھ کر دیکھو

جو ہنس رہا ہے وہ زخموں سے چور نکلے گا


اس آستین سے اشکوں کو پوچھنے والے

اس آستین سے خنجر ضرور نکلے گا


امیر قزلباش