"Tum kahan jaogey
socho Mohsin,
log thak haar ke ghar
jaate hain."
Pakistan army and the civil administration continue restoration work at Gurdwara Darbar Sahib at Kartarpur after it was flooded last week, the state-run Radio Pakistan reports.
PDMA Director General Irfan Ali Kathia has said that 41 people have lost their lives in the floods, while eight have been injured.
During a press conference a day earlier, he warned that Punjab is facing the biggest flood in its history, with the ninth spell of the monsoon predicted to bring more rain over the next two days.
He added that no new flood surge had entered Head Marala, but after the rains, the water in Leh Nullah at Katariyyan has reached up to 19 feet.
Kathia said that there is no threat to Trimmu Headworks and noted that water from the Chenab would enter Multan within the next 12 hours, where it would merge with floodwaters from the Ravi.
احمد فراز (1931–2008) اردو کے مقبول ترین شعرا میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی شاعری میں محبت، جدائی، درد اور انسانی جذبات کا گہرا عکس ملتا ہے۔ ان کی مشہور ترین غزلوں میں سے ایک “رنجش ہی سہی” ہے جو آج بھی محبت کرنے والوں کے دلوں کو چھو لیتی ہے۔ اس بلاگ میں ہم احمد فراز کی یہ مشہور غزل اصل اردو متن اور انگریزی ترجمے کے ساتھ پیش کر رہے ہیں تاکہ اردو اور غیر اردو پڑھنے والے دونوں اس سے لطف اندوز ہو سکیں۔
میں تو مقتل میں بھی قسمت کا سکندر نکلا
قرعۂ فال مرے نام کا اکثر نکلا تھا جنہیں زعم وہ دریا بھی مجھی میں ڈوبے میں کہ صحرا نظر آتا تھا سمندر نکلا میں نے اس جان بہاراں کو بہت یاد کیا جب کوئی پھول مری شاخ ہنر پر نکلا شہر والوں کی محبت کا میں قائل ہوں مگر میں نے جس ہاتھ کو چوما وہی خنجر نکلا تو یہیں ہار گیا ہے مرے بزدل دشمن مجھ سے تنہا کے مقابل ترا لشکر نکلا میں کہ صحرائے محبت کا مسافر تھا فرازؔ ایک جھونکا تھا کہ خوشبو کے سفر پر نکلا احمد فرازکبھی اُن کا نام لینا کبھی اُن کی بات کرنا مرا ذوق اُن کی چاہت، مرا شوق اُن پہ مرنا وہ کسی کی جھیل آنکھیں وہ میری جُنوں مزاجی کبھی ڈُوبنا اُبھر کر کبھی ڈُوب کر اُبھرنا ترے منچلوں کا جگ میں یہ عجب چلن رہا ہے نہ کسی کی بات سُننا، نہ کسی سے بات کرنا شب غم نہ پُوچھ کیسے ترے مبتلا پہ گزری کبھی آہ بھر کے گرنا کبھی گر کے آہ بھرنا وہ تری گلی کے تیور وہ نظر نظر پہ پہرے وہ مرا کسی بہانے تجھے دیکھتے گزرنا کہاں میرے دل کی حسرت کہاں میری نارسائی کہاں تیرے گیسوؤں کا ترے دوش پر بکھرنا تجھے دیکھ کر نہ جانے ابھی کیوں ہیں لوگ زندہ ہے عجیب بد مذاقی تجھے دیکھ کر نہ مرنا ترے سامنے سے آ کر کوئی آئینہ ہٹا دے کہ بڑھا رہا ہے اُلجھن تری زلف کا سنورنا مرا آشیاں جلا دے نہیں اِس کا خوف، لیکن نہ قفس میں قید کر کے مرے بال و پر کترنا چلے لاکھ چال دُنیا، ہو زمانہ لاکھ دشمن جو تری پناہ میں ہو اُسے کیا کسی سے ڈرنا وہ کریں گے ناخدائی تو لگے گی پار کشتی ہے نصیرؔ ورنہ مشکل ترا پار یُوں اُترنا پیر نصیر الدین نصیر