March 06, 2023

Mohsin Naqvi - Ujray hoye logon se gurezan na hua ker

 

اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر

حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر

کیا جانئے کیوں تیز ہوا سوچ میں گم ہے

خوابیدہ پرندوں کو درختوں سے اڑا کر

اس شخص کے تم سے بھی مراسم ہیں تو ہوں گے

وہ جھوٹ نہ بولے گا مرے سامنے آ کر

ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے

تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر

وہ آج بھی صدیوں کی مسافت پہ کھڑا ہے

ڈھونڈا تھا جسے وقت کی دیوار گرا کر

اے دل تجھے دشمن کی بھی پہچان کہاں ہے

تو حلقۂ یاراں میں بھی محتاط رہا کر

اس شب کے مقدر میں سحر ہی نہیں محسنؔ

دیکھا ہے کئی بار چراغوں کو بجھا کر

Muneer Niazi Beautiful poetry

 

رنج فراق یار میں رسوا نہیں ہوا

اتنا میں چپ ہوا کہ تماشا نہیں ہوا

ایسا سفر ہے جس میں کوئی ہم سفر نہیں

رستہ ہے اس طرح کا جو دیکھا نہیں ہوا

مشکل ہوا ہے رہنا ہمیں اس دیار میں

برسوں یہاں رہے ہیں یہ اپنا نہیں ہوا

وہ کام شاہ شہر سے یا شہر سے ہوا

جو کام بھی ہوا ہے وہ اچھا نہیں ہوا

ملنا تھا ایک بار اسے پھر کہیں منیرؔ

ایسا میں چاہتا تھا پر ایسا نہیں ہوا

March 05, 2023

Poetry

 ‏اب یہ عالم ہے کہ غم کی بھی خبر ہوتی نہیں

اشک بہہ جاتے ہیں لیکن آنکھ تر ہوتی نہیں


پھر کوئی کمبخت کشتی نظرِ طوفان ہو گئی

ورنہ ساحل پر اداسی اس قدر ہوتی نہیں


تیرا اندازِ تغافلں ہے جنوں میں آجکل

چاک کر لیتا ہوں دامن اور خبر ہوتی نہیں


ہائے کس عالم میں چھوڑا ہے تمہارے غم نے ساتھ

جب قضا بھی زندگی کی چارہ گر ہوتی نہیں


رنگ محفل چاہتا ہے اک مکمل انقلاب

چند شمعوں کے بھڑکنے سے سحر ہوتی نہیں


اضطراب دل سے قابلؔ وہ نگاہ ِ بے نیاز

بے خبر معلوم ہوتی ہے مگر ہوتی نہیں


قابلؔ اجمیری

Mohsin Naqvi Poetry

 ‏مرحلے شوق کے دُشوار ہُوا کرتے ہیں

سائے بھی راہ کی دیوار ہُوا کرتے ہیں


وہ جو سچ بولتے رہنے کی قسم کھاتے ہیں

وہ عدالت میں گُنہگار ہُوا کرتے ہیں


صرف ہاتھوں کو نہ دیکھو کبھی آنکھیں بھی پڑھو

کچھ سوالی۔۔۔۔۔۔ بڑے خودار ہُوا کرتے ہیں


وہ جو پتھر یونہی رستے میں پڑے رہتے ہیں

اُن کے سینے میں بھی شہکار ہُوا کرتے ہیں


صبح کی پہلی کرن جن کو رُلا دیتی ہے،

وہ ستاروں کے عزادار ہُوا کرتے ہیں


جن کی آنکھوں میں سدا پیاس کے صحرا چمکیں

در حقیقت وہی فنکار ہُوا کرتے ہیں


شرم آتی ہے کہ دُشمن کِسے سمجھیں محسنؔ

دُشمنی کے بھی تو معیار ہُوا کرتے ہیں


محسن نقوی

March 03, 2023

صبر کیا ہے، شکر کیا ہے،

 تم گزرو اور وقت نہ ٹھہرے،

 ایسا تھوڑی ہو سکتا ہے

یاد آؤ اور درد نہ بھڑکے،
ایسا تھوڑی ہو سکتا ہے


صبر کیا ہے،

 شکر کیا ہے،

 راضی ہو کر دیکھ لیا ہے

 لیکن دل کو چین آ جائے،

 ایسا تھوڑی ہو سکتا ہے

 ترک محبت کر لینے سے

 ترک محبت ہو بھی جائے

 کوئی اسے جا کر سمجھائے
،
 ایسا تھوڑی ہو سکتا ہے