November 29, 2022
November 27, 2022
دکھ
کوئی تردید کا صَدمہ ھے ، نہ اَثبات کا دُکھ
جب بچھڑنا ھی مقدر ھے تو ، کس بات کا دُکھ؟
میز پر چائے کا بھاپ اُڑاتا ھُوا کپ
اور ساتھ رَکھا ھے , نہ ھونے والی ملاقات کا دُکھ__
November 26, 2022
شامیں
کیسے گزری ہیں جدائ میں ہماری شامیں
تم سے کہہ دیں تو اُجڑ جائیں تمہاری شامیں
ہجر ،پردیس ،تہی جیب ، غزل کی وحشت
تم نے دیکھی نہیں حالات کی ماری شامیں
اُس نے کچھ سوچ کے انسان میں وحشت رکھی
اُس نے ہیں سوچ کے دنیا میں اُتاری شامیں
احمد سلمان
November 25, 2022
وہ نہیں رہا
ہنسنے کا مشورہ بھی ترا خوب ہے مگر
مجھ میں تھا خوش مزاج کوئی، وہ نہیں رہا
چہرے کو دیکھ کر جو سمجھتا تھا میرا دکھ
ایسا بھی کوئی شخص مرا ہم نشیں رہا
کچھ اس لیے بھی میں یہاں اکتا گیا ہوں دوست
بستی میں ہم مزاج کوئی مل نہیں رہا
جمیل احمد قیس
Muhabbat
کہا اس نے
تب مجھے واقعی تم سے محبت تھی کہا میں نے مجھے تو اب بھی تم سے محبت ہے وہ " تب" کی بات کرتی ہے" میں" اب" کی بات کرتا ہوں مگر جو " فاصلہ" " تب " اور " اب " کے درمیاں حائل ہے وہ ہم سے تو مل کر بھی سمیٹا جا نہیں سکتا وہ " اب " تک آ نہیں سکتی اور میں" تب " کو پا نہیں سکتاNovember 24, 2022
احمد فراز
سب قرینے۔۔۔ اُسی دل دار کے رکھ دیتے ہیں
ہم غزل میں بھی۔۔۔ ہنر یار کے رکھ دیتے ہیں
ذکرِجاناں میں۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ دنیا کو کہاں لے آئے
لوگ کیوں مسئلے بے کار کے رکھ دیتے ہیں
ہم تو چاہت میں بھی غالب کے مقلد ہیں فراز
جس پہ مرتے ہیں اُسے مار کے رکھ دیتے ہیں
احمد فراز
تجھے دیکھتے ہیں
وہ جو پامالِ زمانہ ہیں، مِرے تخت نشیں!
دیکھ تو کیسی مُحبّت سے تُجھے دیکھتے ہیں
کاسہء دِید میں بس ایک جَھلک کا سِکّہ
ہم فقیروں کی قناعت سے تُجھے دیکھتے ہیں
تُجھ کو کیا عِلم، تُجھے ہارنے والے کچھ لوگ
کِس قدر سخت ندامت سے تُجھے دیکھتے ہیں
پروین شاکر
