May 21, 2025

‏"یہ میری غزلیں یہ میری نظمی احمد فراز Most romantic ghazal by Ahmad Fraz

یہ میری غزلیں یہ میری نظمیں

تمام تیری حکایتیں ہیں

یہ تذکرے تیرے لطف کے ہیں

یہ شعر تیری شکایتیں ہیں

میں سب تری نذر کر رہا ہوں

یہ ان زمانوں کی ساعتیں ہیں


جو زندگی کے نئے سفر میں

تجھے کسی وقت یاد آئیں

تو ایک اک حرف جی اٹھے گا

پہن کے انفاس کی قبائیں

اداس تنہائیوں کے لمحوں

میں ناچ اٹھیں گی یہ اپسرائیں

مجھے ترے درد کے علاوہ بھی

اور دکھ تھے یہ مانتا ہوں

ہزار غم تھے جو زندگی کی

تلاش میں تھے یہ جانتا ہوں

مجھے خبر تھی کہ تیرے آنچل میں

درد کی ریت چھانتا ہوں

مگر ہر اک بار تجھ کو چھو کر

یہ ریت رنگ حنا بنی ہے

یہ زخم گلزار بن گئے ہیں

یہ آہ سوزاں گھٹا بنی ہے

یہ درد موج صبا ہوا ہے

یہ آگ دل کی صدا بنی ہے

اور اب یہ ساری متاع ہستی

یہ پھول یہ زخم سب ترے ہیں

یہ دکھ کے نوحے یہ سکھ کے نغمے

جو کل مرے تھے وہ اب ترے ہیں

جو تیری قربت تری جدائی

میں کٹ گئے روز و شب ترے ہیں

وہ تیرا شاعر ترا مغنی

وہ جس کی باتیں عجیب سی تھیں

وہ جس کے انداز خسروانہ تھے

اور ادائیں غریب سی تھیں

وہ جس کے جینے کی خواہشیں بھی

خود اس کے اپنے نصیب سی تھیں

نہ پوچھ اس کا کہ وہ دوانہ

بہت دنوں کا اجڑ چکا ہے

وہ کوہ کن تو نہیں تھا لیکن

کڑی چٹانوں سے لڑ چکا ہے

وہ تھک چکا تھا اور اس کا تیشہ

اسی کے سینے میں گڑ چکا ہے

March 19, 2025

Ibn e Insha

 چل انشاء اپنے گاؤں میں


یہاں اُلجھے اُلجھے رُوپ بہت

پر اصلی کم، بہرُوپ بہت

اس پیڑ کے نیچے کیا رُکنا

جہاں سایہ کم ہو، دُھوپ بہت

چل انشاء اپنے گاؤں میں

بیٹھیں گے سُکھ کی چھاؤں میں


کیوں تیری آنکھ سوالی ہے؟

یہاں ہر اِک بات نرالی ہے

اِس دیس بسیرا مت کرنا

یہاں مُفلس ہونا گالی ہے

چل انشاء اپنے گاؤں میں

بیٹھیں گے سُکھ کی چھاؤں میں


جہاں سچے رشتے یاریوں کے

جہاں گُھونگھٹ زیور ناریوں کے

جہاں جھرنے کومل سُکھ والے

جہاں ساز بجیں بِن تاروں کے

چل انشاء اپنے گاؤں میں

بیٹھیں گے سُکھ کی چھاؤں میں


Best Urdu Poetry

 ‏یہ الگ بات مقدر نہیں بدلہ اپنا 

ایک ہی در پر رہے ، در نہیں بدلہ اپنا 


عشق کا کھیل ہے شطرنج نہیں ہے جاناں

مات کھائی ہے مگر گھر نہیں بدلہ اپنا


اور جانے کس وقت اچانک اُسے یاد آ جائے 

میں نے یہ سوچ کے نمبر نہیں بدلہ اپنا۔۔۔!!؟

Best of Perveen Shakir

 ‏کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی

دل  کو  خوشی  کے  ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی


بات  وہ  آدھی  رات  کی  رات  وہ پورے چاند کی

چاند   بھی  عین  چیت  کا  اس  پہ ترا جمال بھی


سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتا

ایک  دفعہ  تو  رک  گئی  گردش  ماہ  و  سال  بھی


دل تو چمک سکے گا کیا پھر بھی تراش کے دیکھ لیں

شیشہ   گران   شہر   کے   ہاتھ   کا   یہ   کمال   بھی


اس  کو  نہ  پا  سکے  تھے جب دل کا عجیب حال تھا

اب  جو  پلٹ  کے  دیکھیے بات تھی کچھ محال بھی


میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر

ہاتھ  دعا  سے  یوں  گرا  بھول   گیا   سوال   بھی


اس کی سخن طرازیاں میرے لیے بھی ڈھال تھیں

اس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھی


گاہ   قریب   شاہ   رگ   گاہ   بعید   وہم  و  خواب

اس کی رفاقتوں میں رات ہجر بھی تھا وصال بھی


اس کے ہی بازوؤں میں اور اس کو ہی سوچتے رہے

جسم کی خواہشوں پہ تھے روح کے اور جال بھی


شام  کی  نا  سمجھ  ہوا  پوچھ  رہی  ہے  اک پتا

موج  ہوائے  کوئے  یار  کچھ  تو  مرا  خیال بھی


March 05, 2025

Muneer Niazi

 ستارے جو دمکتے ہیں 

کسی کی چشم حیراں میں 

ملاقاتیں جو ہوتی ہیں 

جمال ابر و باراں میں 

یہ نا‌‌ آباد وقتوں میں 

دل ناشاد میں ہوگی 

محبت اب نہیں ہوگی 

یہ کچھ دن بعد میں ہوگی 

گزر جائیں گے جب یہ دن 

یہ ان کی یاد میں ہوگی


منیر نیازی

شاکر شجاع آبادی

 جے تنگ ہووے ساڈی ذات کولوں

دے صاف ڈسا تیڈی جان چھٹے


تیکوں پیار کیتا تیڈا مجرم ہاں

دے سخت سزا تیڈی جان چھٹے


رب توں منگی ضائع نئی تھیندی

منگ دیکھ دعا تیڈی جان چھٹے


ایوی  مار  نا  شاکر  قسطاں  وچ

یک مشت  مکا  تیری جان چھٹے


شاکر شجاع آبادی

Amazing poetry by Perven Shakir

 کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی

دل  کو  خوشی  کے  ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی


بات  وہ  آدھی  رات  کی  رات  وہ پورے چاند کی

چاند   بھی  عین  چیت  کا  اس  پہ ترا جمال بھی


سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتا

ایک  دفعہ  تو  رک  گئی  گردش  ماہ  و  سال  بھی


دل تو چمک سکے گا کیا پھر بھی تراش کے دیکھ لیں

شیشہ   گران   شہر   کے   ہاتھ   کا   یہ   کمال   بھی


اس  کو  نہ  پا  سکے  تھے جب دل کا عجیب حال تھا

اب  جو  پلٹ  کے  دیکھیے بات تھی کچھ محال بھی


میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر

ہاتھ  دعا  سے  یوں  گرا  بھول   گیا   سوال   بھی


اس کی سخن طرازیاں میرے لیے بھی ڈھال تھیں

اس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھی


گاہ   قریب   شاہ   رگ   گاہ   بعید   وہم  و  خواب

اس کی رفاقتوں میں رات ہجر بھی تھا وصال بھی