کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی
دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی
بات وہ آدھی رات کی رات وہ پورے چاند کی
چاند بھی عین چیت کا اس پہ ترا جمال بھی
سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتا
ایک دفعہ تو رک گئی گردش ماہ و سال بھی
دل تو چمک سکے گا کیا پھر بھی تراش کے دیکھ لیں
شیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی
اس کو نہ پا سکے تھے جب دل کا عجیب حال تھا
اب جو پلٹ کے دیکھیے بات تھی کچھ محال بھی
میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر
ہاتھ دعا سے یوں گرا بھول گیا سوال بھی
اس کی سخن طرازیاں میرے لیے بھی ڈھال تھیں
اس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھی
گاہ قریب شاہ رگ گاہ بعید وہم و خواب
اس کی رفاقتوں میں رات ہجر بھی تھا وصال بھی
March 05, 2025
Amazing poetry by Perven Shakir
January 31, 2025
محسن نقوی Best Poetry by Mohsin Naqvi
اِک موجہٓ صہباےٓ جُنوں تیز بہت ہے
اِک سانس کا شیشہ ہے کہ لبریز بہت ہے
کُچھ دِل کا لہو پی کے بھی فصلیں ہُوئیں شاداب
کُچھ یوں بھی زمیں گاوٓں کی زرخیز بہت ہے
پلکوں پہ چراغوں کو سنبھالے ہوئے رکھنا
اِس ہِجر کے موسم کی ہوا تیز بہت ہے
بولے تو سہی ، جھوٹ ہی بولے وہ بَلا سے
ظالم کا لب و لہجہ دل آویز بہت ہے
کیا اُس کے خدوخال کُھلیں اپنی غزل میں
وہ شہر کے لوگوں میں کم آمیز بہت ہے
محسؔن اُسے ملنا ہے تو دُکھنے دو یہ آنکھیں
کچھ اور بھی جاگو کہ وہ ’’شب خیز‘‘ بہت ہے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
فیض احمد فیضؔ Amazing Poetry by Faiz
ویراں ہے مے کدہ خم و ساغر اداس ہیں
تم کیا گئے کہ روٹھ گئے دن بہار کے
دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا
تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے
بھولے سے مسکرا تو دیے تھے وہ آج فیضؔ
مت پوچھ ولولے دل ناکردہ کار کے
فیض احمد فیضؔ
October 23, 2024
منو بھائی کی پنجابی شاعری
منو بھائی کی پنجابی شاعری
او وی خُوب دیہاڑے سن
بُھک لگدی سی، منگ لیندے ساں
مل جاندا سی، کھالیندے ساں
نئیں سی ملدا، تے رو پیندے ساں
روندے روندے سو ں رہندے ساں
اے وی خُوب دیہاڑے نیں
بُھک لگدی اے، منگ نئیں سکدے
ملدا اے تے کھا نئیں سکدے
نئیں ملدا تے، رو نئیں سکدے
نہ روئیے تے، سوں نئیں سکدے
منو بھائی
October 19, 2024
Mohsin Naqvi Poetry اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر
اجڑے ہوئے لوگوں سے گریزاں نہ ہوا کر
حالات کی قبروں کے یہ کتبے بھی پڑھا کر
کیا جانئے کیوں تیز ہوا سوچ میں گم ہے
خوابیدہ پرندوں کو درختوں سے اڑا کر
اس شخص کے تم سے بھی مراسم ہیں تو ہوں گے
وہ جھوٹ نہ بولے گا مرے سامنے آ کر
ہر وقت کا ہنسنا تجھے برباد نہ کر دے
تنہائی کے لمحوں میں کبھی رو بھی لیا کر
وہ آج بھی صدیوں کی مسافت پہ کھڑا ہے
ڈھونڈا تھا جسے وقت کی دیوار گرا کر
اے دل تجھے دشمن کی بھی پہچان کہاں ہے
تو حلقۂ یاراں میں بھی محتاط رہا کر
اس شب کے مقدر میں سحر ہی نہیں محسنؔ
دیکھا ہے کئی بار چراغوں کو بجھا کر
September 20, 2024
Faiz Ahmad Faiz - Amazing Poetry
غم بہ دل شکر بہ لب مست و غزل خواں چلیے
جب تلک ساتھ ترے عمر گریزاں چلیے
رحمت حق سے جو اس سمت کبھی راہ ملے
سوئے جنت بھی براہ رہ جاناں چلیے
نذر مانگے جو گلستاں سے خداوند جہاں
ساغر مے میں لیے خون بہاراں چلیے
جب ستانے لگے بے رنگئ دیوار جہاں
نقش کرنے کوئی تصویر حسیناں چلیے
کچھ بھی ہو آئینۂ دل کو مصفا رکھیے
جو بھی گزرے مثل خسرو دوراں چلیے
امتحاں جب بھی ہو منظور جگر داروں کا
محفل یار میں ہمراہ رقیباں چلیے
Ahmad Fraz Poetry
اب کیا سوچیں کیا حالات تھے کس کارن یہ زہر پیا ہے
ہم نے اس کے شہر کو چھوڑا اور آنکھوں کو موند لیا ہے
اپنا یہ شیوہ تو نہیں تھا اپنے غم اوروں کو سونپیں
خود تو جاگتے یا سوتے ہیں اس کو کیوں بے خواب کیا ہے
خلقت کے آوازے بھی تھے بند اس کے دروازے بھی تھے
پھر بھی اس کوچے سے گزرے پھر بھی اس کا نام لیا ہے
ہجر کی رت جاں لیوا تھی پر غلط سبھی اندازے نکلے
تازہ رفاقت کے موسم تک میں بھی جیا ہوں وہ بھی جیا ہے
ایک فرازؔ تمہیں تنہا ہو جو اب تک دکھ کے رسیا ہو
ورنہ اکثر دل والوں نے درد کا رستہ چھوڑ دیا ہے