May 30, 2023


اسے اپنے فردا کی فکر تھی، جو میرا واقفِ حال تھا

وہ جو اس کی صبحِ عروج تھی، وہی میرا وقتِ زوال تھا


میرا درد کیسے وہ جانتا، میری بات کیسے وہ مانتا

وہ تو خود فنا کے سفر میں تھا، اُسے روکنا بھی محال تھا


کہاں جاؤ گے مجھے چھوڑ کر، میں یہ پوچھ پوچھ کے تھک گیا

وہ جواب مجھ کو نہ دے سکا، وہ خود سراپا سوال تھا


وہ جو اس کے سامنے آگیا، وہی روشنی میں نہا گیا

عجب اس کی ہیبتِ حسن تھی، عجب اس کا رنگِ جمال تھا


دمِ واپسی اسے کیا ہوا، نہ وہ روشنی نہ وہ تازگی

وہ ستارہ کیسے بکھر گیا، وہ تو آپ اپنی مثال تھا


وہ ملا تو صدیوں کے بعد بھی، میرے لب پہ کوئی گلہ نہ تھا

اُسے میری چپ نے رلا دیا، جسے گفتگو میں کمال تھا


میرے ساتھ لگ کے وہ رو دیا، اور مجھے فقط اتنا وہ کہہ سکا

جسے جانتا تھا میں زندگی، وہ تو صرف وہم و خیال تھا

May 29, 2023

 ‏فرض کرو ہم اہلِ وفا ہوں

فرض کرو دیوانے ہوں

فرض کرو یہ دونوں باتیں

جُھوٹی ھوں افسانے ہوں


فرض کرو یہ جی کی بپتا

جی سے جوڑ سنائی ہو 

فرض کرو ابھی اور ہو اُتنی

آدھی ہم نے چُھپائی ہو 


فرض کرو تمہیں خوش کرنے کے

ڈھونڈے ہم نے بہانے ہوں

فرض کرو یہ نین تمہارے

سَچ مُچ کے میخانے ہوں

May 26, 2023

 ‏اِک بیر، نہ اِک مہر، نہ اِک ربط نہ رشتہ 

تیرا کوئی اپنا، نہ پرایا کوئی میرا 


مانا کہ یہ سنسان گھڑی سخت کڑی ہے 

لیکن میرے دل یہ تو فقط ایک ہی گھڑی ہے 

ہمت کرو جینے کو تو اِک عمر پڑی ہے


فیض احمد فیض ♥️

May 25, 2023

Shakir Shuja abadi

 ‏اساں اجڑے لوک مقدراں دے

ویران نصیب دا حال نہ پچھ

توں شاکر آپ سیانا ایں

ساڈا چہرہ پڑھ حالات نہ پچھ


شاکر شجاع آبادی

 ‏جب ترا حکم ملا ترک محبت کر دی

دل مگر اس پہ وہ دھڑکا کہ قیامت کر دی


تجھ سے کس طرح میں اظہار تمنا کرتا

لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی


میں تو سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے

تو نے جا کر تو جدائی مری قسمت کر دی


تجھ کو پوجا ہے کہ اصنام پرستی کی ہے

میں نے وحدت کے مفاہیم کی کثرت کر دی


مجھ کو دشمن کے ارادوں پہ بھی پیار آتا ہے

تری الفت نے محبت مری عادت کر دی


پوچھ بیٹھا ہوں میں تجھ سے ترے کوچے کا پتہ

تیرے حالات نے کیسی تری صورت کر دی


کیا ترا جسم ترے حسن کی حدت میں جلا

راکھ کس نے تری سونے کی سی رنگت کر دی


احمد ندیم قاسمی

May 24, 2023

Parveen Shakir

 ‏کمال ضبط کو خود بھی تو آزماؤں گی

میں اپنے ہاتھ سے اس کی دلہن سجاؤں گی


سپرد کر کے اسے چاندنی کے ہاتھوں میں

میں اپنے گھر کے اندھیروں کو لوٹ آؤں گی


بدن کے کرب کو وہ بھی سمجھ نہ پائے گا

میں دل میں روؤں گی آنکھوں میں مسکراؤں گی


وہ کیا گیا کہ رفاقت کے سارے لطف گئے

میں کس سے روٹھ سکوں گی کسے مناؤں گی


اب اس کا فن تو کسی اور سے ہوا منسوب

میں کس کی نظم اکیلے میں گنگناؤں گی


وہ ایک رشتۂ بے نام بھی نہیں لیکن

میں اب بھی اس کے اشاروں پہ سر جھکاؤں گی


بچھا دیا تھا گلابوں کے ساتھ اپنا وجود

وہ سو کے اٹھے تو خوابوں کی راکھ اٹھاؤں گی


سماعتوں میں گھنے جنگلوں کی سانسیں ہیں

میں اب کبھی تری آواز سن نہ پاؤں گی


جواز ڈھونڈ رہا تھا نئی محبت کا

وہ کہہ رہا تھا کہ میں اس کو بھول جاؤں گی


پروین شاکر

May 21, 2023

Faiz Ahmad Faiz

 ‏نہ اب رقیب نہ ناصح نہ غم گسار کوئی 

تم آشنا تھے تو تھیں آشنائیاں کیا کیا 


جدا تھے ہم تو میسر تھیں قربتیں کتنی 

بہم ہوئے تو پڑی ہیں جدائیاں کیا کیا 


پہنچ کے در پہ ترے کتنے معتبر ٹھہرے 

اگرچہ رہ میں ہوئیں جگ ہنسائیاں کیا کیا 


ہم ایسے سادہ دلوں کی نیاز مندی سے 

بتوں نے کی ہیں جہاں میں خدائیاں کیا کیا 


ستم پہ خوش کبھی لطف و کرم سے رنجیدہ 

سکھائیں تم نے ہمیں کج ادائیاں کیا کیا


فیض احمد فیضؔ