اے سمندر ! ترے کم ظرف حوالے نہ گئے
ناؤ بھر لوگ مرے تجھ سے سنبھالے نہ گئے
خواب میں ایک سفر اور تھا درپیش مجھے
میں گیا , ساتھ مگر پاؤں کے چھالے نہ گئے
تم نے اک حرفِ تسلی نہ کہا ، جاتے ہوئے
تم سے دو اشک دکھاوے کے نکالے نہ گئے
میں آنکھیں جو ذرا کھولوں
وہ حُسن یوں اس دل کی عدالت سے بری ہے
قیدی ہے مگر قید کی مُدّت سے بری ہے آئینے کو مُہلت ہے ذرا اور سنور جائے یہ آنکھ ابھی منصبِ حیرت سے بری ہے جب چاہے مرے حجرۂِ خلوت میں چلا آئے معشوق ہے اور میری اجازت سے بری ہے عارف امامTaikon yad hosi mai akhya ham' dildar mitha tu chor waisin,
Wal wal quran te hath na rakh' na kasman chaa tu chor waisin,