March 19, 2025

Ibn e Insha

 چل انشاء اپنے گاؤں میں


یہاں اُلجھے اُلجھے رُوپ بہت

پر اصلی کم، بہرُوپ بہت

اس پیڑ کے نیچے کیا رُکنا

جہاں سایہ کم ہو، دُھوپ بہت

چل انشاء اپنے گاؤں میں

بیٹھیں گے سُکھ کی چھاؤں میں


کیوں تیری آنکھ سوالی ہے؟

یہاں ہر اِک بات نرالی ہے

اِس دیس بسیرا مت کرنا

یہاں مُفلس ہونا گالی ہے

چل انشاء اپنے گاؤں میں

بیٹھیں گے سُکھ کی چھاؤں میں


جہاں سچے رشتے یاریوں کے

جہاں گُھونگھٹ زیور ناریوں کے

جہاں جھرنے کومل سُکھ والے

جہاں ساز بجیں بِن تاروں کے

چل انشاء اپنے گاؤں میں

بیٹھیں گے سُکھ کی چھاؤں میں


Best Urdu Poetry

 ‏یہ الگ بات مقدر نہیں بدلہ اپنا 

ایک ہی در پر رہے ، در نہیں بدلہ اپنا 


عشق کا کھیل ہے شطرنج نہیں ہے جاناں

مات کھائی ہے مگر گھر نہیں بدلہ اپنا


اور جانے کس وقت اچانک اُسے یاد آ جائے 

میں نے یہ سوچ کے نمبر نہیں بدلہ اپنا۔۔۔!!؟

Best of Perveen Shakir

 ‏کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی

دل  کو  خوشی  کے  ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی


بات  وہ  آدھی  رات  کی  رات  وہ پورے چاند کی

چاند   بھی  عین  چیت  کا  اس  پہ ترا جمال بھی


سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتا

ایک  دفعہ  تو  رک  گئی  گردش  ماہ  و  سال  بھی


دل تو چمک سکے گا کیا پھر بھی تراش کے دیکھ لیں

شیشہ   گران   شہر   کے   ہاتھ   کا   یہ   کمال   بھی


اس  کو  نہ  پا  سکے  تھے جب دل کا عجیب حال تھا

اب  جو  پلٹ  کے  دیکھیے بات تھی کچھ محال بھی


میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر

ہاتھ  دعا  سے  یوں  گرا  بھول   گیا   سوال   بھی


اس کی سخن طرازیاں میرے لیے بھی ڈھال تھیں

اس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھی


گاہ   قریب   شاہ   رگ   گاہ   بعید   وہم  و  خواب

اس کی رفاقتوں میں رات ہجر بھی تھا وصال بھی


اس کے ہی بازوؤں میں اور اس کو ہی سوچتے رہے

جسم کی خواہشوں پہ تھے روح کے اور جال بھی


شام  کی  نا  سمجھ  ہوا  پوچھ  رہی  ہے  اک پتا

موج  ہوائے  کوئے  یار  کچھ  تو  مرا  خیال بھی


March 05, 2025

Muneer Niazi

 ستارے جو دمکتے ہیں 

کسی کی چشم حیراں میں 

ملاقاتیں جو ہوتی ہیں 

جمال ابر و باراں میں 

یہ نا‌‌ آباد وقتوں میں 

دل ناشاد میں ہوگی 

محبت اب نہیں ہوگی 

یہ کچھ دن بعد میں ہوگی 

گزر جائیں گے جب یہ دن 

یہ ان کی یاد میں ہوگی


منیر نیازی

شاکر شجاع آبادی

 جے تنگ ہووے ساڈی ذات کولوں

دے صاف ڈسا تیڈی جان چھٹے


تیکوں پیار کیتا تیڈا مجرم ہاں

دے سخت سزا تیڈی جان چھٹے


رب توں منگی ضائع نئی تھیندی

منگ دیکھ دعا تیڈی جان چھٹے


ایوی  مار  نا  شاکر  قسطاں  وچ

یک مشت  مکا  تیری جان چھٹے


شاکر شجاع آبادی

Amazing poetry by Perven Shakir

 کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی

دل  کو  خوشی  کے  ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی


بات  وہ  آدھی  رات  کی  رات  وہ پورے چاند کی

چاند   بھی  عین  چیت  کا  اس  پہ ترا جمال بھی


سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتا

ایک  دفعہ  تو  رک  گئی  گردش  ماہ  و  سال  بھی


دل تو چمک سکے گا کیا پھر بھی تراش کے دیکھ لیں

شیشہ   گران   شہر   کے   ہاتھ   کا   یہ   کمال   بھی


اس  کو  نہ  پا  سکے  تھے جب دل کا عجیب حال تھا

اب  جو  پلٹ  کے  دیکھیے بات تھی کچھ محال بھی


میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر

ہاتھ  دعا  سے  یوں  گرا  بھول   گیا   سوال   بھی


اس کی سخن طرازیاں میرے لیے بھی ڈھال تھیں

اس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھی


گاہ   قریب   شاہ   رگ   گاہ   بعید   وہم  و  خواب

اس کی رفاقتوں میں رات ہجر بھی تھا وصال بھی


January 31, 2025

محسن نقوی Best Poetry by Mohsin Naqvi

اِک    موجہٓ  صہباےٓ    جُنوں    تیز    بہت   ہے

اِک  سانس   کا   شیشہ   ہے  کہ  لبریز  بہت ہے


کُچھ دِل کا لہو پی کے بھی فصلیں ہُوئیں شاداب

کُچھ  یوں  بھی زمیں گاوٓں کی زرخیز بہت ہے


پلکوں  پہ  چراغوں  کو  سنبھالے  ہوئے  رکھنا

اِس  ہِجر  کے  موسم  کی  ہوا   تیز  بہت   ہے


بولے   تو   سہی ، جھوٹ ہی بولے وہ بَلا سے

ظالم   کا   لب و لہجہ   دل   آویز   بہت  ہے


کیا   اُس  کے خدوخال کُھلیں اپنی غزل میں

وہ  شہر  کے  لوگوں  میں  کم  آمیز  بہت  ہے


محسؔن  اُسے  ملنا  ہے  تو  دُکھنے دو یہ آنکھیں

کچھ اور بھی جاگو کہ وہ ’’شب خیز‘‘ بہت ہے

 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔