کچھ تو ہوا بھی سرد تھی کچھ تھا ترا خیال بھی
دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی بات وہ آدھی رات کی رات وہ پورے چاند کی چاند بھی عین چیت کا اس پہ ترا جمال بھی سب سے نظر بچا کے وہ مجھ کو کچھ ایسے دیکھتا ایک دفعہ تو رک گئی گردش ماہ و سال بھی دل تو چمک سکے گا کیا پھر بھی تراش کے دیکھ لیں شیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی اس کو نہ پا سکے تھے جب دل کا عجیب حال تھا اب جو پلٹ کے دیکھیے بات تھی کچھ محال بھی میری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر ہاتھ دعا سے یوں گرا بھول گیا سوال بھی اس کی سخن طرازیاں میرے لیے بھی ڈھال تھیں اس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھی گاہ قریب شاہ رگ گاہ بعید وہم و خواب اس کی رفاقتوں میں رات ہجر بھی تھا وصال بھی اس کے ہی بازوؤں میں اور اس کو ہی سوچتے رہے جسم کی خواہشوں پہ تھے روح کے اور جال بھی شام کی نا سمجھ ہوا پوچھ رہی ہے اک پتا موج ہوائے کوئے یار کچھ تو مرا خیال بھیMost Romantic Urdu poetry
You will find all time best poetry of best Urdu Poets here
November 26, 2025
Best Urdu Poetry by ibn e insha - Insha g ab umer ki naqdi khatam hui اب عمر کی نقدی ختم ہوئی
اب عمر کی نقدی ختم ہوئی
اب ہم کو ا دھار کی حاجت ہے ہے کوئی جو ساہو کار بنے ہے کوئی جو دیون ہار بنے کچھ سال ،مہینے، دن لوگو پر سود بیاج کے بن لوگو ہاں اپنی جا ں کے خزانے سے ہاں عمر کے توشہ خانے سے کیا کوئی بھی ساہو کار نہیں؟ کیا کوئی بھی دیون ہار نہیں؟ جب نام ادھار کا آیا ہے کیوں سب نے سر کو جھکایا ہے کچھ کام ہمیں نپٹانے ہیں جنہیں جاننے والے جانے ہیں کچھ پیار دلار کے دھندے ہیں کچھ جگ کے دوسرے پھندے ہیں ہم مانگتے نہیں ہزا ر برس دس پانچ برس دو چار برس ہاں ،سود بیا ج بھی دے لیں گے ہاں اور خرا ج بھی دے لیں گے آسان بنے، دشوار بنے پر کوئی تو دیون ہار بنے تم کون ہو تمہارا نام کیا ہے کچھ ہم سے تم کو کام کیا ہے کیوں ا س مجمع میں آئی ہو کچھ مانگتی ہو ؟ کچھ لاتی ہو یہ کاروبار کی باتیں ہیں یہ نقد ادھار کی باتیں ہیں ہم بیٹھے ہیں کشکول لیے سب عمر کی نقدی ختم کیے گر شعر کے رشتے آئی ہو تب سمجھو جلد جدائی ہو اب گیت گیا سنگیت گیا ہاں شعر کا موسم بیت گیا اب پت جھڑ آئی پات گریں کچھ صبح گریں، کچھ را ت گریں یہ اپنے یار پرانے ہیں اک عمر سے ہم کو جانے ہیں ان سب کے پاس ہے مال بہت ہاں عمر کے ماہ و سال بہت ان سب کو ہم نے بلایا ہے اور جھولی کو پھیلایا ہے تم جاؤ ا ن سے بات کریں ہم تم سے نا ملاقات کریں کیا پانچ برس ؟ کیا عمر ا پنی کے پانچ برس ؟ تم جا ن کی تھیلی لائی ہو ؟ کیا پاگل ہو ؟ سو دائی ہو ؟ جب عمر کا آ خر آتا ہے ہر دن صدیاں بن جاتا ہے جینے کی ہوس نرالی ہے ہے کون جو ا س سے خالی ہے کسی اور خراج کا لالچ ہے ؟ تم سوہنی ہو ، من موہنی ہو ؛ تم جا کر پوری عمر جیو یہ پانچ برس، یہ چار برس چھن جائیں تو لگیں ہزار برس سب دوست گئے سب یار گئے تھے جتنے ساہو کار ، گئے بس ایک یہ ناری بیٹھی ہے یہ کون ہے ؟ کیا ہے ؟ کیسی ہے ؟ ہاں عمر ہمیں درکار بھی ہے ؟ ہاں جینے سے ہمیں پیار بھی ہے جب مانگیں جیون کی گھڑیاں گستاخ اکھیں کتھے جا لڑیاں ہم قرض تمہیں لوٹا دیں گے کچھ اور بھی گھڑیاں لا دیں گے جو ساعت و ماہ و سال نہیں وہ گھڑیاں جن کو زوال نہیں لو ا پنے جی میں اتار لیا لو ہم نے تم سے ادھار لیا…!!!November 14, 2025
کسی بشر میں ہزار خامی Amazing Poetry lines
کسی بشر میں
November 04, 2025
Amazing Nasir Kazmi Urdu Poetry
کیا دن مجھے عشق نے دکھاۓ
اِک بار جو آۓ پھر نہ آۓ اُس پیکرِ ناز کا فسانہ دل ہوش میں آۓ تو سُناۓ وہ روحِ خیال و جانِ مضموں دل اس کو کہاں سے ڈھونڈھ لاۓ آنکھیں تھیں کہ دو چھلکتے ساغر عارض کہ شراب تھرتھراۓ مہکی ہوئ سانس نرم گفتار ہر ایک روش پہ گل کھلاۓ راہوں پہ ادا ادا سے رقصاں آنچل میں حیا سے منہ چھپاۓ اُڑتی ہوئ زلف یوں پریشاں جیسے کوئ راہ بھول جاۓ کچھ پھول برس پڑے زمیں پر کچھ گیت ہوا میں لہلہاۓOctober 13, 2025
HUM JO TAREEK RAHOON MAIN MARAY GAYE ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے "
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے "
تیرے ہونٹوں کے پھولوں کی چاہت میں ہم
دار کی خشک ٹہنی پہ وارے گئے
تیرے ہاتوں کی شمعوں کی حسرت میں ہم
نیم تاریک راہوں میں مارے گئے
سولیوں پر ہمارے لبوں سے پرے
تیرے ہونٹوں کی لالی لپکتی رہی
تیری زلفوں کی مستی برستی رہی
تیرے ہاتھوں کی چاندی دمکتی رہی
جب گھلی تیری راہوں میں شام ستم
ہم چلے آئے لائے جہاں تک قدم
لب پہ حرف غزل دل میں قندیل غم
اپنا غم تھا گواہی ترے حسن کی
دیکھ قائم رہے اس گواہی پہ ہم
ہم جو تاریک راہوں پہ مارے گئے
نارسائی اگر اپنی تقدیر تھی
تیری الفت تو اپنی ہی تدبیر تھی
کس کو شکوہ ہے گر شوق کے سلسلے
ہجر کی قتل گاہوں سے سب جا ملے
قتل گاہوں سے چن کر ہمارے علم
اور نکلیں گے عشاق کے قافلے
جن کی راہ طلب سے ہمارے قدم
مختصر کر چلے درد کے فاصلے
کر چلے جن کی خاطر جہانگیر ہم
جاں گنوا کر تری دلبری کا بھرم
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے
September 06, 2025
Shakir Shuja Abadi - Beautiful Sareki Poetry
کوئی اینج دا جادو کر ڈھولا
میں یاد کراں تو کول ہوویں
ہن بس کر روسے آہ ونج سجناں
تیڈی یاد اچ ساری مکدی پئی ہے
میں سُنڑیاں ہے زندگی ول نہیں لبھنی
تائییوں تیری یاد اچ سڑدی پہیئ ہے
Shakir Shuja Abadi - Wonderful Sareki Poetry
ساڈے اجڑے دل دا حال نہ پوچھ
متاں پہلا مجرم توں ہوویں
تیڈے پچھے رولتی میں ذندگی توں
میکو وی چھڈ کے ٹر پیا ہیں
ایڈی گل تہ یار کوئی نائی ہوئی
ایوے رس کے تو وی ٹر پیا ہے